حدیث نمبر: 3238
وَعَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى فِي يَوْمِ الْأَضْحَى بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ فَخَطَبَ الرِّجَالَ ثُمَّ مَالَ إِلَى النِّسَاءِ فَخَطَبَهُنَّ وَحَثَّهُنَّ عَلَى الصَّدَقَةِ حَتَّى كَثُرَ مَعَ بِلَالٍ الْمَتَاعُ قُلْتُ : لِلْبَرَاءِ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ
محمد محی الدین

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدالاضحی کے دن اذان اور اقامت کے بغیر نماز ادا کی ، پھر آپ نے مردوں کو خطبہ دیا ، پھر آپ خواتین کی طرف تشریف لے گئے انہیں خطبہ دیا اور انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دی ، یہاں تک کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس بہت سا سامان اکٹھا ہو گیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا براء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے ” صحیح “ اور دوسری کتابوں میں ایک حدیث منقول ہے ، جو اس حدیث کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبیداللہ بن عمر بن ابان ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3238
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف ولکن الحدیث صحیح لغیرہ