مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الصَّلَاةِ قَبْلَ الْعِيدِ وَبَعْدَهَا 3230 عَنْ أَيُّوبَ قَالَ : رَأَيْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ وَالْحَسَنَ يُصَلِّيَانِ يَوْمَ الْعِيدِ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ الْإِمَامُ قَالَ : وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سِيرِينَ جَاءَ فَجَلَسَ وَلَمْ يُصَلِّ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . باب: عید سے پہلے اور اس کے بعد ( نفل ) نماز ادا کرنا
حدیث نمبر: 3234
وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ كَانَا يَنْهَيَانِ النَّاسَ - أَوْ قَالَ - يُجْلِسَانِ مَنْ يَرَيَاهُ يُصَلِّي قَبْلَ خُرُوجِ الْإِمَامِ [ فِي الْعِيدِ ] رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِأَسَانِيدَ ، وَفِي بَعْضِهَا قَالَ : أُنْبِئْتُ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ وَحُذَيْفَةَ فَهُوَ مُرْسَلٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِمحمد محی الدین
ابن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو منع کرتے تھے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان افراد کو بٹھا دیتے تھے ، جنہیں وہ امام کے آنے سے پہلے نوافل پڑھتے ہوئے دیکھتے تھے ایسا عید کے دن ہوتا تھا ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے بعض میں یہ بات مذکور ہے : مجھے یہ بات بتائی گئی کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ( ایسا کرتے تھے ) تو
یہ روایت ” مرسل “ ہے ، اور سند کے اعتبار سے صحیح ہے ۔