حدیث نمبر: 3222
وَعَنْ عُتْبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ : كُنْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ عِيدٍ فَقَالَ : " ادْعُوا لِي سَيِّدَ الْأَنْصَارِ " فَدَعَوْا أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ فَقَالَ : " يَا أُبَيُّ ائْتِ الْمُصَلَّى فَأْمُرْ بِكَنْسِهِ وَأْمُرِ النَّاسَ فَلْيَخْرُجُوا " فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ رَجَعَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ وَالنِّسَاءُ ؟ فَقَالَ : " وَالْعَوَاتِقُ وَالْحُيِّضُ يَكُنَّ فِي النَّاسِ يَشْهَدْنَ الدَّعْوَةَ " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ يَزِيدُ [ بْنُ شَدَّادٍ ] الْهَنَّائِيُّ مَجْهُولٌ وَكَذَلِكَ عُتْبَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ مَجْهُولٌ
محمد محی الدین

عتبہ بن عبداللہ بن عمرو بیان کرتے ہیں : میرے والد نے ، میرے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عید کے دن موجود تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : انصار کے سردار کو میرے پاس بلا کے لاؤ ! لوگوں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو بلایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابی ! تم عیدگاہ جاؤ اور وہاں جھاڑو دینے کا حکم دو ، اور لوگوں کو ہدایت کرو کہ وہ نکلیں ، جب وہ دروازے تک پہنچے ، تو واپس آ گئے اور بولے : یا رسول اللہ ! کیا خواتین بھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جوان لڑکیاں اور حیض والی خواتین بھی لوگوں کے ساتھ ہوں گی ، اور وہ دعا میں شریک ہوں گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن شداد ہنائی ہے ، جو مجہول ہے ، اسی طرح عتبہ بن عبداللہ بن عمرو بن العاص نامی راوی بھی مجہول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / أبواب العيدين / حدیث: 3222
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف