مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ الْأَكْلِ يَوْمَ الْفِطْرِ قَبْلَ الْخُرُوجِ 3209 عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ : إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ لَا يَغْدُوَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ فَلْيَفْعَلْ قَالَ : فَلَمْ أَدَعْ أَنْ آكُلَ قَبْلَ أَنْ أَغْدُوَ مُنْذُ سَمِعْتُ ذَلِكَ مِنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَآكُلَ مِنْ طَرَفِ الصَّرِيقَةِ الْأَكْلَةَ وَأَشْرَبُ اللَّبَنَ أَوِ الْمَاءَ فَقُلْتُ : عَلَى مَا تَأَوَّلَ هَذَا ؟ قَالَ : سَمِعَهُ أَظُنُّ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَانُوا لَا يَخْرُجُونَ حَتَّى يَمْتَدَّ الضُّحَى فَيَقُولُونَ : نَطْعَمُ لِئَلَّا نَعْجَلَ عَنْ صَلَاتِنَا " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ . باب: عید الفطر کے دن ( نماز کے لئے ) نکلنے سے پہلے کچھ کھانا
وَعَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ قَالَتْ : سَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَلْ تَخْرُجُ النِّسَاءُ فِي الْعِيدِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " قِيلَ : فَالْعَوَاتِقُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا ثَوْبٌ تَلْبَسُهُ فَلْتَلْبَسْ ثَوْبَ صَاحِبَتِهَا " رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : لَهُ حَدِيثَانِ غَيْرُ مَحْفُوظَيْنِ ، وَقَالَ ابْنُ الْمَدِينِي : ثِقَةٌام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا : کیا عید کے موقع پر خواتین بھی نکلیں گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! عرض کی گئی ، لڑکیاں بھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اگر کسی عورت کے پاس لباس ( یعنی سر پر اوڑھنے کے لیے چادر نہ ہو ) جسے وہ پہن سکتی ہو ، تو پھر وہ اپنی ساتھی عورت کی چادر لے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مطیع بن میمون ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے دو حدیثیں منقول ہیں ، اور وہ دونوں محفوظ نہیں ہیں ، علی بن مدینی کہتے ہیں : وہ ” ثقہ “ ہے ۔