مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
أبواب العيدين— عیدین سے متعلق ابواب
بَابُ التَّكْبِيرِ فِي الْعِيدَيْنِ باب: عیدین میں تکبیر کہنا
حدیث نمبر: 3201
وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ أَبْرَهَةَ قَالَ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَبَّرَ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ مِنْ صَلَاةِ الظُّهْرِ يَوْمَ النَّحْرِ حَتَّى خَرَجَ مِنْ مِنًى يُكَبِّرُ دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ قَالَ الشَّاذَكُونِيُّ : عَلَى هَذَا تَكْبِيرُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ شَرْقِيُّ بْنُ قُطَامِيٍّ ضَعَّفَهُ زَكَرِيَّا السَّاجِيُّ وَذَكَرُهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَذَكَرَهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِمحمد محی الدین
سیدنا شریح بن ابرہہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایام تشریق میں قربانی کے دن ، نماز ظہر سے لے کر منی سے نکلنے تک ، ہر فرض نماز کے بعد تکبیر کہا: کرتے تھے ۔ شاذکونی بیان کرتے ہیں : اہل مدینہ کا تکبیر کہنے کا طریقہ بھی یہی ہے ۔ امام طبرانی نے
یہ روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی شرقی بن قطامی ہے ، جسے ذکریا ساجی نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، ابن عدی نے اس کا ذکر کتاب ” الکامل “ میں کیا ہے ۔