حدیث نمبر: 32
وَعَنْ خُرَيْمِ بْنِ فَاتِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْأَعْمَالُ سِتَّةٌ وَالنَّاسُ أَرْبَعَةٌ : فَمُوجِبَتَانِ ، وَمِثْلٌ بِمِثْلٍ ، وَحَسَنَةٌ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ ; فَأَمَّا الْمُوجِبَتَانِ : فَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ . وَأَمَّا مِثْلٌ بِمِثْلٍ : فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ حَتَّى يَشْعُرَهَا قَلْبُهُ وَيَعْلَمَهَا اللَّهُ مِنْهُ - كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةٌ ، وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً كُتِبَتْ عَلَيْهِ سَيِّئَةٌ ، وَمَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَبِعَشْرِ أَمْثَالِهَا ، وَمَنْ أَنْفَقَ نَفَقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَحَسَنَةٌ بِسَبْعِمِائَةٍ . وَأَمَّا النَّاسُ : فَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا مَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ ، وَمَقْتُورٌ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَمُوَسَّعٌ عَلَيْهِ فِي الْآخِرَةِ " . ¤ قُلْتُ : رَوَى التِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ مِنْهُ ذِكْرَ النَّفَقَةِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ خُرَيْمٍ . وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ : عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ يُسَيْرِ بْنِ عَمِيلَةَ . وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا خریم بن فاتک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اعمال چھ قسم کے ہیں اور لوگ چار قسم کے ہیں ، دو قسم کے عمل واجب کرنے والے ہیں ( ایک قسم کا عمل ) برابر برابر کی بنیاد پر ہے ( ایک قسم کا عمل یہ ہے ) کہ ایک نیکی کا بدلہ دس گنا ہو گا ( ایک قسم کا عمل ایسا ہے ) کہ ایک نیکی کا بدلہ سات سو گنا ہو جہاں تک واجب کرنے والی دو چیزوں کا تعلق ہے تو جو شخص ایسی حالت میں انتقال کرے کہ وہ کسی کو اللہ کا شریک نہ ٹھراتا ہو تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا اور جو شخص ایسی حالت میں مر جائے کہ وہ کسی کو اللہ تعالی کا شریک ٹھہراتا ہو ایسا شخص جہنم میں جائے گا جہاں تک برابر برابر کی صورت کا تعلق ہے تو جو شخص نیکی کا پختہ ارادہ کرے اور اس کے دل کو اس نیکی کا شعور ہو اور اللہ تعالی کو اس شخص کے حوالے سے اس نیکی کا علم ہو ( کہ وہ شخص واقعی وہ نیکی کرنے کا پختہ ارادہ رکھتا ہے لیکن پھر کسی وجہ سے وہ شخص وہ نیکی نہ کر سکے ) تو اس شخص کے لیے ایک نیکی نوٹ کی جائے گی اور جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرئے تو اس کے لیے ایک برائی نوٹ کی جائے گی جو شخص کسی نیکی پر عمل کرئے تو اسے دس گنا اجر و ثواب حاصل ہو گا اور جو شخص اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرے گا اُسے سات سو گنا اجر و ثواب حاصل ہو گا اور جہاں تک ( دو قسم کے ) لوگوں کا تعلق ہے تو کچھ ایسے لوگ ہیں ، جنہیں دنیا میں گنجائش نصیب ہوتی ہے اور وہ آخرت میں تنگی کا سامنا کریں گے اور کچھ ایسے ہیں ، جنہیں دنیا میں تنگی کا سامنا ہوتا ہے اور ان کے لیے آخرت میں کشادگی ہو گی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ترمذی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے اس روایت میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے متعلق حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : یہ روایت رکین بن ربیع کے حوالے سے ایک شخص کے حوالے سے سیدنا خریم رضی اللہ عنہ سے منقول ہے جبکہ امام طبرانی نے یہ بات کہی ہے : یہ روایت رکین بن ربیع کے حوالے سے اُن کے والد کے حوالے سے ان کے چچا یسیر بن عمیلہ سے منقول ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 32
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 4151 ، 4155 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 4059 اورده المؤلف فى زوائد المسند 27 كنز 16142»