حدیث نمبر: 3198
وَعَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيِّ أَنَّ أَبَا مُوسَى كَانَ بِالدَّارِ مِنْ أَصْبَهَانَ وَمَا بِهِمْ يَوْمَئِذٍ كَبِيرُ خَوْفٍ ، وَلَكِنْ أَحَبَّ أَنْ يُعَلِّمَهُمْ دِينَهُمْ وَسُنَّةَ نَبِيِّهِمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَهُمْ صَفَّيْنِ ؛ طَائِفَةً مَعَهَا السِّلَاحُ مُقْبِلَةً عَلَى عَدُوِّهَا ، وَطَائِفَةً مِنْ وَرَائِهَا فَصَلَّى ، بِالَّذِينِ يَلُونَهُ رَكْعَةً ثُمَّ نَكَصُوا عَلَى أَدْبَارِهِمْ حَتَّى قَامُوا مَقَامَ الْآخَرِينَ يَتَخَلَّلُونَهُمْ حَتَّى قَامُوا وَرَاءَهُ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً أُخْرَى ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ الَّذِينَ يَلُونَهُ وَالْآخَرُونَ فَصَلُّوا رَكْعَةً رَكْعَةً ، ثُمَّ سَلَّمَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ فَتَمَّتْ لِلْإِمَامِ رَكْعَتَيْنِ وَلِلنَّاسِ رَكْعَةً رَكْعَةً رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ
محمد محی الدین

ابوالعالیہ ریاحی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ ” اصبہان “ میں ایک محلے میں موجود تھے ، اور وہاں لوگوں کو زیادہ خوف بھی نہیں تھا ، لیکن انہوں نے اس بات کو پسند کیا کہ ان لوگوں کو ان کے دین اور ان کے نبی کی سنت کی تعلیم دیں ، تو انہوں نے دو صفیں بنوا لیں ، ایک گروہ ان کے ساتھ ہتھیار لے کر دشمن کی طرف رُخ کر کے کھڑا ہو گیا ، اور ایک گروہ اس کے پیچھے تھا ، انہوں نے اپنے پاس والوں کو ایک رکعت پڑھائی ، پھر وہ لوگ الٹے قدموں پیچھے چلے گئے ، یہاں تک کہ دوسرے لوگوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے وہ ان کے درمیان میں سے گزرتے ہوئے ان کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے ، پھر سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے دوسرے لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی ، پھر انہوں نے سلام پھیر دیا ، پھر وہ لوگ کھڑے ہو گئے ، جو ان کے پیچھے تھے ، اور دوسرے لوگ بھی کھڑے ہو گئے ، انہوں نے ایک ایک رکعت ادا کی پھر انہوں نے یکے بعد دیگرے سلام پھیر دیا ، یوں امام کی دو رکعات ہوئیں ، اور لوگوں کی ایک ، ایک رکعت ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، معجم کبیر کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3198
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔