حدیث نمبر: 3182
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّمَا أَخَافُ عَلَى أُمَّتَيِ الْكِتَابَ وَاللَّبَنِ " قَالَ : قِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا بَالُ الْكِتَابِ ؟ قَالَ : " يَتَعَلَّمُهُ الْمُنَافِقُونَ ثُمَّ يُجَادِلُونَ بِهِ الَّذِينَ آمَنُوا " قَالَ : فَقِيلَ : فَمَا بَالِ اللَّبَنِ ؟ قَالَ : " أُنَاسٌ يُحِبُّونَ اللَّبَنَ فَيَخْرُجُونَ مِنَ الْجَمَاعَاتِ وَيَتْرُكُونَ الْجُمُعَاتِ " رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ
محمد محی الدین

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مجھے اپنی امت کے بارے میں کتاب اور دودھ کا اندیشہ ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! کتاب کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : منافقین اس کا علم حاصل کریں گے اور پھر اس کے ذریعے اہل ایمان کے ساتھ بحث کریں گے ، راوی بیان کرتے ہیں : دریافت کیا گیا : دودھ کا کیا معاملہ ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : لوگ دودھ کو پسند کریں گے اور پھر جماعت ( یعنی با جماعت نمازوں ) سے نکل جائیں گے اور جمعہ ترک کر دیں گئے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3182
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف