حدیث نمبر: 3167
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِمَّا يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْجُمُعَةِ بِالْجُمُعَةِ فَيُحَرِّضُ بِهِ الْمُؤْمِنِينَ، وَفِي الثَّانِيَةِ بِسُورَةِ الْمُنَافِقِينَ فَيُفْزِعُ بِهِ الْمُنَافِقِينَ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمَّارٍ هُوَ الْوَازِعِيُّ ، وَهُوَ وَشَيْخُهُ عَبْدُ الصَّمَدِ مِنْ أَهْلِ الرَّأْيِ وَثَّقَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کی نماز میں سورت جمعہ کی تلاوت کرتے تھے آپ اس کے ذریعے اہل ایمان کو ترغیب دیتے تھے ، اور دوسری رکعت میں سورت منافقین کی تلاوت کرتے تھے اس کے ذریعے آپ منافقین کو ڈراتے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کیا ہے ، اور اس کی سند حسن ہے محمد بن عمار نامی راوی وازعی ہے وہ اور اس کا استاد عبدالصمد ، اہل رائے سے تعلق رکھتے ہیں ، اور ان دونوں کو ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3167
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔