مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْخُطْبَةِ وَالْقِرَاءَةِ فِيهَا . باب: خطبہ دینا اور اس میں قرأت کرنا
حدیث نمبر: 3160
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّكُمْ فِي زَمَانٍ قَلِيلٌ خُطَبَاؤُهُ كَثِيرٌ عُلَمَاؤُهُ ، يُطِيلُونَ الصَّلَاةَ وَيَقْصُرُونَ الْخُطْبَةَ ، وَسَيَأْتِي عَلَيْكُمْ زَمَانٌ كَثِيرٌ خُطَبَاؤُهُ قَلِيلٌ عُلَمَاؤُهُ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌمحمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تم لوگ ایک ایسے زمانے میں رہ رہے ہو ، جس میں خطیب کم ہیں ، اور علماء زیادہ ہیں وہ لوگ نماز طویل ادا کرتے ہیں ، اور خطبہ مختصر دیتے ہیں عنقریب تم لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا جس میں خطیب زیادہ ہوں گے اور علماء کم ہوں گے “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔