حدیث نمبر: 309
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " يَابْنَ مَسْعُودٍ ، أَيُّ عُرَى الْإِيمَانِ أَوْثَقُ ؟ " قُلْتُ : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ . قَالَ : " أَوْثَقُ عُرَى الْإِسْلَامِ : الْوِلَايَةُ فِي اللَّهِ ، وَالْحُبُّ فِي اللَّهِ ، وَالْبُغْضُ فِي اللَّهِ " فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ بِتَمَامِهِ فِي الْعِلْمِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ عَقِيلُ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ابن مسعود ! ایمان کی کون سی رسی سب سے زیادہ مضبوط ہے ؟ میں نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام کی سب سے مضبوط رسی اللہ تعالیٰ کے لیے دوستی رکھنا ہے ، اللہ تعالیٰ کے لیے محبت رکھنا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے لیے بغض رکھنا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، یہ مکمل روایت علم سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عقیل بن جعد ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ منکر الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 309
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 10357 ، 10531 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 223/1»