حدیث نمبر: 3089
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَارِعُوا إِلَى الْجُمَعِ ؛ فَإِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَبْرُزُ إِلَى أَهْلِ الْجَنَّةِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ فِي كَثِيبِ كَافُورٍ فَيَكُونُوا مِنْهُ فِي الْقُرْبِ عَلَى قَدْرِ تَسَارُعِهِمْ إِلَى الْجُمُعَةِ فَيُحْدِثُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - لَهُمْ مِنَ الْكَرَامَةِ شَيْئًا لَمْ يَكُونُوا رَأَوْهُ قَبْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ يَرْجِعُونَ إِلَى أَهْلِيهِمْ فَيُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا أَحْدَثَ اللَّهُ لَهُمْ قَالَ : ثُمَّ دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ الْمَسْجِدَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ قَدْ سَبَقَاهُ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : رَجُلَانِ وَأَنَا الثَّالِثُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُبَارِكَ فِي الثَّالِثِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ عَنِ ابْنِ مَاجَهْ مَرْفُوعٌ بِاخْتِصَارٍ عَنْ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤
محمد محی الدین

ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ فرماتے ہیں : جمعہ کی طرف جلدی جاؤ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر جمعہ کے دن اہل جنت کے سامنے کافور کے بنے ہوئے ٹیلے پر آئے گا ، اور وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اسی حساب سے مقرب ہوں گے جتنی جلدی وہ جمعہ کے لئے جایا کرتے تھے اللہ تعالی ان کے ساتھ بات چیت کرے گا یہ ایک ایسی عزت افزائی ہو گی کہ انہوں نے اس جیسی کوئی چیز اس سے پہلے نہیں دیکھی ہو گی پھر جب وہ لوگ اپنے اہل خانہ کی طرف واپس جائیں گے تو انہیں یہ بتائیں گے کہ اللہ تعالی نے ان پر کیا انعام و اکرام کیا ہے راوی بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ مسجد میں داخل ہوئے تو جمعہ کے دن اُن سے پہلے دو افراد آ چکے تھے تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : دو آدمی پہلے آ گئے ہیں ( میں تیسرا ہوں ) اگر اللہ نے چاہا تو وہ تیسرے میں بھی برکت رکھے گا ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے منقول ایک حدیث امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے ، جو ” مرفوع “ روایت ہے ، اور اس سے زیادہ مختصر ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابوعبیدہ نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3089
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منقطع۔