مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنِ اقْتَصَرَ عَلَى الْوُضُوءِ . باب: جو شخص ( جمعہ کے دن ) وضو کرنے پر اکتفاء کرے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَدَخَلَ رَجُلٌ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يُبْطِئُ أَحَدُكُمْ ثُمَّ يَتَخَطَّى رِقَابَ النَّاسِ وَيُؤْذِيهِمْ" فَقَالَ : مَا زِدْتُ عَلَى أَنْ سَمِعْتُ النِّدَاءَ فَتَوَضَّأْتُ فَقَالَ : "أَوَيَوْمُ وُضَوْءٍ هُوَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْوَلِيدِ السَّهْمِيُّ قَالَ النَّسَائِيُّ : لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے ۔ اسی دوران ایک شخص ( مسجد میں ) داخل ہوا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر آگے آیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے کوئی ایک شخص آنے میں تاخیر کرتا ہے ، اور پھر لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے ، اور انہیں اذیت پہنچاتا ہے ، اس شخص نے کہا: میں نے جیسے ہی اذان سنی تو اور کچھ نہیں کیا صرف وضو کیا ( اور آ گیا ہوں ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا یہ صرف وضو کرنے کا دن ہے ؟ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ولید سہمی ہے امام نسائی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ قوی نہیں ہے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔