مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ مِنَ الْخَيْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ . باب: جمعہ کے دن بھلائی کے کون سے کام کرنے چاہیئں ؟
حدیث نمبر: 3035
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَنَا أَنْ نَشْهَدَ الْجُمُعَةَ وَلَا نَغِيبَ عَنْهَا وَقَالَ : " أَحَدُكُمْ أَحَقُّ بِمَجْلِسِهِ إِذَا رَجَعَ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ بَعْدُ فِي تَارِكِ الْجُمُعَةِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم جمعہ میں شریک ہوں ، اور اس سے غائب نہ رہیں آپ نے ارشاد فرمایا تھا : تم میں سے کوئی ایک اپنی جگہ کا زیادہ حق رکھتا ہو گا جب وہ اس کی طرف واپس آئے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔ میں یہ کہتا ہوں : جمعہ ترک کرنے والے شخص کے بارے میں احادیث آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔