حدیث نمبر: 3004
وَعَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تُحْشَرُ الْأَيَّامُ عَلَى هَيْئَتِهَا وَتُحْشَرُ الْجُمُعَةُ زَهْرَاءَ مُنِيرَةً ، أَهْلُهَا يَحُفُّونَ بِهَا كَالْعَرُوسِ تُهْدَى إِلَى خِدْرِهَا تُضِيءُ لَهُ يَمْشُونَ فِي ضَوْئِهَا ، أَلْوَانُهُمْ كَالثَّلْجِ بَيَاضًا وَرِيحُهُمْ كَالْمِسْكِ ، يَخُوضُونَ فِي جِبَالِ الْكَافُورِ يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ الثَّقْلَانِ لَا يَطْرُقُونَ تَعَجُّبًا حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُخَالِطُهُمْ أَحَدٌ إِلَّا الْمُؤَذِّنُونَ الْمُحْتَسِبُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ حَفْصِ بْنِ غَيْلَانَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُمَا قَوْمٌ وَضَعَّفَهُمَا آخَرُونَ وَهُمَا مُحْتَجٌّ بِهِمَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” دنوں کو ان کی مخصوص شکل میں اٹھایا جائے گا ، جمعہ کے دن کو روشن اور چمک دار شکل میں اٹھایا جائے گا ، اور اس کے اہل افراد سے یوں ساتھ لے کر چلیں گے جس طرح دلہن کو اس کے خیمے کی طرف لے جایا جاتا ہے ، اس دن کی روشنی ہو گی ، اور لوگ اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے ان کی رنگت سفید برف کی مانند ہو گی ، اور ان کی خوشبو مشک کی مانند ہو گی وہ لوگ کافور کے پہاڑوں میں جائیں گے ، جن و انس ان کی طرف دیکھ رہے ہوں گے اور حیرانگی کی وجہ سے پلک نہیں چھپک رہے ہوں گے یہاں تک کہ وہ لوگ جنت میں داخل ہو جائیں گے ان لوگوں کے ساتھ اور کوئی ( دوسرا ) شخص شامل نہیں ہو گا صرف ثواب کے حصول کی نیت سے اذان دینے والے لوگ شامل ہوں گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ہیثم بن حمید کے حوالے سے حفص بن غیلان سے نقل کی ہے ایک قوم نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے ، اور دوسرے لوگوں نے ان دونوں کو ضعیف قرار دیا ہے ، اور ان دونوں سے استدلال کیا جا سکتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3004
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔