حدیث نمبر: 3000
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قِيلَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَيُّ شَيْءٍ سُمِّيَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : " لِأَنَّ فِيهَا طُبِعَتْ طِينَةُ أَبِيكَ آدَمَ ، وَفِيهَا الصَّعْقَةُ وَالْبَعْثَةُ، وَفِيهَا الْبَطْشَةُ ، وَفِي آخِرِ ثَلَاثِ سَاعَاتٍ مِنْهَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا اللَّهَ فِيهَا اسْتُجِيبَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا : جمعہ کے دن کو یہ نام کس وجہ سے دیا گیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : اس کی وجہ یہ ہے کہ تمہارے جد امجد سیدنا آدم علیہ السلام کے خمیر کو اس دن تیار کیا گیا اسی دن قیامت آئے گی ، اور دوبارہ زندہ کیا جائے گا اسی دن گرفت ہو گی ، اور اس دن کی آخری تین گھڑیوں میں سے ایک گھڑی ایسی ہے کہ جو شخص اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ سے دعا مانگے گا اس کی دعا قبول ہو گی “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 3000
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «مسند احمد بن حنبل مسند ابى بريرة رضى الله عنه 7917»