مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ . باب: سفر کے دوران ، دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا
وَعَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ قَالَ : سَأَلْتُ جَابِرًا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : هَلْ جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، عَامَ غَزَوْنَا بَنِي الْمُصْطَلِقِ . ¤ قُلْتُ : لِجَابِرٍ حَدِيثٌ فِي الْجَمْعِ بِسَرِفَ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤ابوزبیر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! جب ہم بنو مصطلق کے ساتھ جنگ کے لئے گئے تھے ( اس موقع پر آپ نے ایسا کیا تھا ) ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا جابر کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ” سرف “ صرف کے مقام پر دو نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں یہ روایت امام ابوداؤ داور دیگر حضرات نے نقل کی ہے
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔