مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَا تَقْصُرُ فِيهِ الصَّلَاةَ وَمُدَّةِ الْقَصْرِ . باب: کس صورت میں نماز قصر کی جائے گی ، اور قصر کی مدت کا بیان
وَعَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : لَا تَنْتَقِصُنَّ مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي مَبَادِيكُمْ وَلَا أَجْشَارِكُمْ وَلَا تَسِيرُوا فِي قُرَى السَّوَادِ فِي حَوَائِجِكُمْ فَتَقُولُوا : إِنَّا سُفْرٌ ، إِنَّمَا الْمُسَافِرُ مِنَ الْأُفُقِ إِلَى الْأُفُقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَزِيَادٌ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهُ : لَا تَغْتَرُّوا تِجَارَتَكُمْ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . ¤زیاد بن ابومریم نے ، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ قول نقل کیا ہے : تم لوگ اپنے اطراف کے علاقوں کے سفر میں میں نماز کو قصر نہ کرو ، اور اپنی حوائج کے لئے بستیوں میں سفر نہ کرو ، یوں کہ تم لوگ یہ کہو : کہ ہم تو مسافر ہیں ، ( کیونکہ ) مسافر وہ ہوتا ہے ، جو ایک کونے سے دوسرے کونے تک جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے زیاد نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ان سے ایک روایت یہ منقول ہے ” تم اپنی تجارت کے حوالے سے غلط فہمی کا شکار نہ ہو جاؤ “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق روایت نقل کی ہے ۔