مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ صَلَاةِ الْمَرِيضِ وَصَلَاةِ الْجَالِسِ . باب: بیمار شخص کی نماز اور بیٹھے ہوئے شخص کی نماز
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : دَخَلَ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَا : إِنَّ أُمَّ الْأَسْوَدِ أُقْعِدَتْ وَأَنَّهُ يُرْكِزُ لَهَا عَوْدَ الْمِرْوَحَةِ تَسْجُدُ عَلَيْهِ فَمَا تَرَى ؟ قَالَ : إِنِّي لَأَرَى الشَّيْطَانَ يَعْرِضُ بِالْعُودِ ، لِتَسْجُدَ عَلَى الْأَرْضِ إِنِ اسْتَطَاعَتْ وَإِلَّا تُومِئُ إِيمَاءً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : علقمہ اور اسود سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان دونوں نے عرض کی : اسود کی والدہ کو بٹھا دیا جاتا ہے پھر ان کے لئے ایک لکڑی رکھی جاتی ہے ، جس پر وہ سجدہ کرتی ہیں تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں یہ سمجھتا ہوں کہ شیطان اس لکڑی کے در پے ہوتا ہے ، اس عورت کو زمین پر سجدہ کرنا چاہیے اگر وہ اس کی استطاعت رکھتی ہو ، ورنہ اسے اشارے کے ساتھ سجدہ کرنا چاہیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابراہیم نخعی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔