مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشَهُّدِ وَالْجُلُوسِ وَالْإِشَارَةِ بِالْإِصْبَعِ فِيهِ . باب: تشہد ، جلوس ( یعنی بیٹھنا ) اور اس دوران انگلی کے ذریعے اشارہ کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ كَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ ، وَيَقُولُ : " تَعَلَّمُوا فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ إِلَّا بِتَشَهُّدٍ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ صُفْدِي بْنُ سِنَانٍ ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِرِجَالٍ مُوَثَّقِينَ وَفِي بَعْضِهِمْ خِلَافٌ لَا يَضُرُّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تشہد ( کے کلمات ) کی تعلیم یوں دیتے تھے جس طرح آپ ہمیں قرآن کی کسی سورت کی تعلیم دیتے تھے آپ یہ ارشاد فرماتے تھے تم لوگ یہ سیکھ لو کیونکہ تشہد کے بغیر نماز نہیں ہوتی ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صفدی بن سنان ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، اسے امام بزار نے ایسے رجال کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ جن کی توثیق کی گئی ہے ، اور ان میں سے بعض کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، لیکن وہ نقصان دہ نہیں ہے اگر اللہ نے چاہا ۔