مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشَهُّدِ وَالْجُلُوسِ وَالْإِشَارَةِ بِالْإِصْبَعِ فِيهِ . باب: تشہد ، جلوس ( یعنی بیٹھنا ) اور اس دوران انگلی کے ذریعے اشارہ کرنا
حدیث نمبر: 2843
وَعَنْ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ بْنِ رَحْضَةَ الْغِفَارِيِّ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَلَسَ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ السَّبَّابَةِ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ : يَسْحَرُ بِهَا وَكَذَبُوا وَلَكِنَّهُ التَّوْحِيدُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مُطَوَّلًا وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي صِفَةِ الصَّلَاةِ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ كَمَا تَرَاهُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا خفاف بن ایماء بن رحضہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کے آخر میں بیٹھتے تھے تو شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے تھے مشرکین یہ کہا: کرتے تھے : وہ اس کے ذریعے جادو کر رہے ہیں حالانکہ مشرکین جھوٹ بولتے تھے یہ وحدانیت کا اعتراف ہوتا تھا
یہ روایت امام أحمد نے طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے یہ اس سے پہلے نماز کے طریقے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں اس طرح نقل کیا ہے ، جس طرح آپ ملاحظہ فرما رہے ہیں ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔