مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ التَّشَهُّدِ وَالْجُلُوسِ وَالْإِشَارَةِ بِالْإِصْبَعِ فِيهِ . باب: تشہد ، جلوس ( یعنی بیٹھنا ) اور اس دوران انگلی کے ذریعے اشارہ کرنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ قَالَ : لَأَنْ يَجْلِسَ أَحَدُكُمْ عَلَى رَضْفَتَيْنِ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَجْلِسَ فِي الصَّلَاةِ مُتَرَبِّعًا، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : يَقُولُ : إِذَا كَانَ يُصَلِّي قَائِمًا فَلَا يَجْلِسُ يَتَشَهَّدُ مُتَرَبِّعًا فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا فَلْيَتَرَبَّعْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ عَنِ الْهَيْثَمِ بْنِ شِهَابٍ وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے ہیں : تم میں سے کوئی ایک شخص دو انگاروں پر بیٹھ جائے یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہو گا کہ وہ نماز کے دوران چار زانوں بیٹھے ۔ امام عبدالرزاق کہتے ہیں : وہ یہ فرماتے ہیں : جب آدمی کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا ہو تو وہ تشہد میں چار زانوں نہ بیٹھے لیکن جب وہ بیٹھ کر نماز ادا کر رہا ہو تو پھر وہ چار زانوں بیٹھ سکتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ہیثم بن شہاب کے حوالے سے نقل کی ہے ، جسے امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔