حدیث نمبر: 282
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : " إِنَّ رَبَّكُمْ - تَعَالَى - لَيْسَ عِنْدَهُ لَيْلٌ وَلَا نَهَارٌ ، نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ مِنْ نُورِ وَجْهِهِ ، وَإِنَّ مِقْدَارَ يَوْمٍ مِنْ أَيَّامِكُمْ عِنْدَهُ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ سَاعَةً ، وَتُعْرَضُ عَلَيْهِ أَعْمَالُكُمْ بِالْأَمْسِ أَوَّلَ النَّهَارِ الْيَوْمَ ، فَيَنْظُرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ ، فَيَطَّلِعُ فِيهَا عَلَى مَا يَكْرَهُ فَيُغْضِبُهُ ذَلِكَ ، فَأَوَّلُ مَنْ يَعْلَمُ غَضَبَهُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ ، يَجِدُونَهُ ثَقُلَ عَلَيْهِمْ ، فَتَسْجُدُ حَمَلَةُ الْعَرْشِ وَسُرَادِقَاتِ الْعَرْشِ وَالْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ وَسَائِرُ الْمَلَائِكَةِ ، ثُمَّ يَنْفُخُ جِبْرِيلُ بِالْقَرْنِ ، فَلَا يَبْقَى شَيْءٌ إِلَّا سَمِعَ صَوْتَهُ ، فَيُسَبِّحُونَ الرَّحْمَنَ - عَزَّ وَجَلَّ - ثَلَاثَ سَاعَاتٍ ، حَتَّى يَمْتَلِئَ الرَّحْمَنُ رَحْمَةً ، فَتِلْكَ سِتُّ سَاعَاتٍ ، ثُمَّ تُؤْتَى بِالْأَرْحَامِ فَيَنْظُرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ فِي كِتَابِهِ " هُوَ الَّذِي يُصَوِّرُكُمْ فِي الْأَرْحَامِ كَيْفَ يَشَاءُ " ، " يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ " فَتِلْكَ تِسْعُ سَاعَاتٍ ، ثُمَّ يُؤْتَى بِالْأَرْزَاقِ فَيُنْظَرُ فِيهَا ثَلَاثَ سَاعَاتٍ ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ " يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ " ، " كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ " . قَالَ : هَذَا مِنْ شَأْنِكُمْ وَشَأْنِ رَبِّكُمْ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو عَبْدِ السَّلَامِ . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : مَجْهُولٌ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مِكْرَزٍ - أَوْ عُبَيْدُ اللَّهِ عَلَى الشَّكِّ - لَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تمہارے پروردگار کے پاس رات اور دن نہیں ہوتے ہیں ، آسمانوں اور زمین کا نور ، اس کی ذات کے نور کے فیض کی وجہ سے ہے ، اور تمہارے دنوں کے حوالے سے ، ایک دن اُس کی بارگاہ میں بارہ گھڑیوں کا ہوتا ہے ، گزشتہ دن کے تمہارے اعمال ، آج کے دن کے ابتدائی حصے میں اُس کی بارگاہ میں پیش کیے جاتے ہیں ، تو وہ تین گھڑیوں میں اُن کا جائزہ لیتا ہے اور جب وہ ان اعمال میں کوئی ایسی چیز پاتا ہے ، جو اسے ناپسند ہو ، تو یہ چیز اسے غضبناک کر دیتی ہے ، اس کے غضب کے بارے میں سب سے پہلے عرش کو اُٹھانے والے فرشتوں کو علم ہوتا ہے ، وہ اپنے اوپر اس کا بوجھ پاتے ہیں ، تو عرش کو اٹھانے والے عرش کے پردوں کو اٹھانے والے ، دیگر مقرب فرشتے ، اور تمام فرشتے سجدہ میں چلے جاتے ہیں ، پھر سیدنا جبرائیل علیہ السلام سینگ میں پھونک مارتے ہیں ، تو ہر چیز اُن کی آواز سنتی ہے ، پھر وہ سب تین گھڑیوں تک رحمن کی تسبیح بیان کرتے ہیں ، یہاں تک کہ رحمان ، رحمت سے بھر جاتا ہے ، تو یہ چھ گھڑیاں ہو گئیں ، پھر ” ارحام “ کو بلایا جاتا ہے ، تو وہ تین گھڑیوں تک ان کا جائزہ لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ کی کتاب میں موجود اس آیت سے یہی مراد ہے : ” وہی وہ ذات ہے ، جو ارحام میں ، تمہاری صورت بناتی ہے ، جیسے وہ چاہتا ہے “ ۔
( ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ جسے چاہتا ہے ، بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ، بیٹے دیتا ہے یا وہ مذکر اور مؤنث کے جوڑے بنا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے اسے بانجھ رکھتا ہے ، بے شک وہ علم والا ، قدرت والا ہے “ ۔
( سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ) تو یہ نو گھڑیاں ہو گئیں ، پھر رزق لائے جاتے ہیں تو وہ تین گھڑیوں تک اُن کا جائزہ لیتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے یہی مراد ہے : ” وہ جسے چاہتا ہے ، کشادہ رزق عطا کرتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے ، تنگی کا شکار کر دیتا ہے “ ۔ ” ہر دن میں اُس کی الگ شان ہے “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو یہ تمہارا اور تمہارے پروردگار کا معاملہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابوعبد السلام ہے ، امام ابوحاتم بیان کرتے ہیں : یہ مجہول ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے اور عبداللہ بن مکرز نامی راوی کا ذکر شک کے ساتھ ہوا ہے ، کہ شاید اس کا نام عبیداللہ ہے ، تاہم میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 282
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8886»