مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ صِفَةِ الصَّلَاةِ وَالتَّكْبِيرِ فِيهَا . باب: نماز کا طریقہ اور اس میں تکبیر کہنا
وَعَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ : شَهِدْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَتَى بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ فَأَكْفَأَ عَلَى يَمِينِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَمَسَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ بِهَا يَسَارَهُ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْمَاءِ فَحَفَنَ بِهَا حَفْنَةً مِنَ الْمَاءِ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَدْخَلَ كَفَّيْهِ فِي الْإِنَاءِ فَرَفَعَهُمَا إِلَى وَجْهِهِ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَغَسَلَ بَاطِنَ أُذُنَيْهِ وَأَدْخَلَ إِصْبَعَيْهِ فِي دَاخِلٍ وَمَسَحَ ظَاهِرَ رَقَبَتِهِ وَبَاطِنَ لِحْيَتِهِ ثَلَاثًا ، ثُمَّ أَدْخَلَ يَمِينَهُ فِي الْإِنَاءِ فَغَسَلَ بِهَا ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَسَارَهُ بِيَمِينِهِ حَتَّى جَاوَزَ الْمِرْفَقَ ثَلَاثًا ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثًا وَظَاهِرَ أُذُنَيْهِ ثَلَاثًا وَظَاهِرَ رَقَبَتِهِ - وَأَظُنُّهُ قَالَ - : وَظَاهِرَ لِحْيَتِهِ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ بِيَمِينِهِ قَدَمَهُ الْيُمْنَى ثَلَاثًا وَفَصَلَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَرَفَعَ الْمَاءَ حَتَّى جَاوَزَ الْكَعْبَ ثُمَّ رَفَعَهُ فِي السَّاقِ ثُمَّ فَعَلَ بِالْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ ، ثُمَّ أَخَذَ حَفْنَةً مِنْ مَاءٍ فَمَلَأَ بِهَا يَدَهُ ثُمَّ وَضَعَهَا عَلَى رَأْسِهِ حَتَّى انْحَدَرَ الْمَاءُ مِنْ جَوَانِبِهِ وَقَالَ : "هَذَا تَمَامُ الْوُضُوءِ " وَلَمْ أَرَهُ يُنَشِّفُ بِثَوْبٍ ، ثُمَّ نَهَضَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ فِي الْمِحْرَابِ - يَعْنِي مَوْضِعَ الْمِحْرَابِ - فَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى يَسَارِهِ وَعِنْدَ صَدْرِهِ ثُمَّ افْتَتَحَ الْقِرَاءَةَ فَجَهَرَ بِـ "الْحَمْدُ" ثُمَّ فَرَغَ مِنْ سُورَةِ "الْحَمْدُ" فَقَالَ : " آمِينَ " حَتَّى سَمِعَ مَنْ خَلْفَهُ ثُمَّ قَرَأَ سُورَةً أُخْرَى ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ، ثُمَّ رَكَعَ فَجَعَلَ يَدَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَأَمْهَلَ فِي الرُّكُوعِ حَتَّى اعْتَدَلَ وَصَارَ صُلْبُهُ لَوْ وُضِعَ عَلَيْهِ قَدَحٌ مِنَ الْمَاءِ مَا انْكَفَأَ ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِخُشُوعٍ وَقَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِشَحْمَةِ أُذُنَيْهِ ثُمَّ انْحَطَّ لِلسُّجُودِ بِالتَّكْبِيرِ فَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى حَاذَتَا بِشَحْمَةَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ أَثْبَتَ جَبْهَتَهُ فِي الْأَرْضِ حَتَّى إِنِّي أَرَى أَنْفَهُ فِي الرَّمْلِ، وَقَوَّسَ بِذِرَاعَيْهِ وَرَأْسِهِ وَبَسَطَ فَخِذَهُ الْيَسَارَ وَنَصَبَ الْيُمْنَى كَمَا أَثْبَتَ أَصَابِعَ رِجْلِهِ وَلَمْ يُمْهِلْ بِالسُّجُودِ ، وَرَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ إِلَى أَنْ حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ وَجَلَسَ جِلْسَةً خَفِيفَةً فَوَضَعَ كَفَّهُ الْيُمْنَى عَلَى رُكْبَتِهِ وَبَعْضِ فَخِذِهِ وَحَلَّقَ بِإِصْبَعِهِ ثُمَّ انْحَطَّ سَاجِدًا بِمِثْلِ ذَلِكَ ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ بِالتَّكْبِيرِ بِيَدَيْهِ إِلَى أَنْ حَاذَتَا شَحْمَةَ أُذُنَيْهِ وَإِلَى أَنِ اعْتَدَلَ فِي قِيَامِهِ وَرَجَعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ ، ثُمَّ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ يَفْعَلُ فِيهِنَّ مَا فَعَلَ فِي هَذِهِ ثُمَّ جَلَسَ جِلْسَةً فِي التَّشَهُّدِ مِثْلَ ذَلِكَ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْسَرِ، وَسَلَّمَ عَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رُئِيَ بَيَاضُ خَدِّهِ الْأَيْمَنِ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ : فِيهِ بَعْضُ النَّظَرِ وَقَالَ الذَّهَبِيُّ : لَهُ مَنَاكِيرُ . ¤سیدنا وائل بن حجر بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا آپ کے پاس ایک برتن لایا گیا جس میں کچھ پانی موجود تھا آپ نے اسے دائیں ہاتھ پر انڈیلا اور تین مرتبہ اسے دھویا پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے بائیں ہاتھ کو تین مرتبہ دھویا پھر آپ نے اپنا بایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے پانی کا چلو لے کر تین مرتبہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا آپ نے تین مرتبہ ناک صاف کیا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ برتن میں داخل کیے اور ان دونوں کو چہرے کی طرف بلند کر کے چہرے کو تین مرتبہ دھویا آپ نے کانوں کے اندرونی حصے کو بھی دھویا اور دو انگلیاں اندرونی حصے میں داخل کیں آپ نے گردن کے بیرونی حصے اور داڑھی کے نیچے والے حصے پر تین مرتبہ مسح کیا پھر آپ نے اپنا دایاں ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے اپنا دایاں بازو دھویا یہاں تک کہ کہنیوں کے اوپر تک دھویا ایسا آپ نے تین مرتبہ کیا پھر آپ نے دائیں ہاتھ کے ذریعے بایاں بازو کہنیوں سے آگے تک تین مرتبہ دھویا پھر آپ نے اپنے سر پر تین مرتبہ مسح کیا کانوں کے بیرونی حصے پر تین مرتبہ مسح کیا اور گردن پر مسح کیا راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے انہوں نے یہ بات بھی بیان کی تھی داڑھی کے بیرونی حصے پر مسح کیا پھر آپ نے اپنا دایاں پاؤں دائیں ہاتھ کے ذریعے تین مرتبہ دھویا آپ نے اپنی انگلیوں کو کھلا کر کے ( اچھی طرح دھویا ) پھر آپ نے پانی بلند کیا یہاں تک کہ ٹخنوں سے اوپر تک لے گئے پھر آپ نے اسے بلند کیا اور پنڈلی تک لے گئے پھر آپ نے بائیں ٹانگ کے ساتھ بھی اسی طرح کیا پھر آپ نے پانی کا چلو لیا اس کے ذریعے اپنے دونوں ہاتھ بھرے اور پھر اسے اپنے سر پر ڈال لیا یہاں تک کہ وہ پانی آپ کے اطراف سے بہنے لگا آپ نے ارشاد فرمایا یہ مکمل وضو ہے راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کو کپڑے کے ذریعے جسم خشک کرتے ہوئے نہیں دیکھا پھر آپ مسجد کی طرف تشریف لے گئے اور محراب میں داخل ہوئے راوی کہتے ہیں : یعنی اس جگہ پر جہاں اب محراب ہے لوگوں نے آپ کے پیچھے صف بنا لی آپ کے دائیں طرف اور بائیں طرف صف بنا لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ آپ ان دونوں کو کانوں کی لو کے برابر تک لے آئے پھر آپ نے سینے کے پاس دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھ دیا اور تلاوت کرنی شروع کی آپ نے الحمدللہ سے بلند آواز میں تلاوت شروع کی جب آپ سورت فاتحہ پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے آمین کہا: یہاں تک کہ آپ کے پیچھے موجود افراد نے اس کی آواز سنی پھر آپ نے ایک اور سورت کی تلاوت کی پھر آپ نے تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ انہیں کانوں کی لو تک لے آئے پھر آپ رکوع میں گئے پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر رکھے اور اپنی انگلیوں کو کشادہ رکھا آپ رکوع میں ٹھہرے رہے ، یہاں تک کہ آپ کا ہر عضو برابر ہو گیا اور آپ کی پشت کی یہ حالت تھی کہ اگر اس پر پانی کا پیالہ رکھا جاتا تو وہ پانی نہ چھلکتا پھر آپ نے خشوع کے ساتھ اپنے سر کو اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ کہا: پھر آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ انہیں کانوں کی لو تک لے آئے پھر آپ نے سجدے میں جانے کے لئے تکبیر کہتے ہوئے جھکے آپ نے دونوں ہاتھ بلند کیے یہاں تک کہ انہیں دونوں کانوں کی لو تک لے آئے پھر آپ نے اپنی پیشانی کو زمین پر جما کے رکھا یہاں تک کہ میں نے آپ کی ناک کو ریت میں دیکھا آپ نے اپنی کلائیوں کو قوس کی شکل میں کر لیا اور اپنے سر کو بھی رکھا آپ نے اپنے بائیں زانوں کو بچا لیا اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیا جس طرح پاؤں کی انگلیوں کو کھڑا کیا جاتا ہے آپ سجدے میں زیادہ دیر نہیں رہے پھر آپ نے اپنے سر کو اٹھایا اور تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ بلند کیے اور انہیں کانوں کی لو تک لے آئے آپ ذرا سی دیر کے لئے بیٹھے اور آپ نے اپنی دائیں ہتھیلی اپنے گھٹنے پر اور زانوں کے کچھ حصے پر رکھی آپ نے اپنی انگلی کے ذریعے حلقہ بنایا اور پھر آپ سجدے میں جانے کے لئے جھک گئے آپ نے اس کی مانند سجدہ کیا پھر آپ نے تکبیر کہتے ہوئے اپنے سر کو اٹھایا اور دونوں ہاتھ کانوں کی لو تک لے آئے یہاں تک کہ آپ قیام میں سیدھے کھڑے ہو گئے اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ گئی آپ نے چار رکعات ادا کیں جن میں آپ نے اسی طرح کیا جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا پھر آپ تشہد میں بیٹھ گئے جو اس کی مانند تھا پھر آپ نے دائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ آپ کے بائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگی پھر آپ نے بائیں طرف سلام پھیرا یہاں تک کہ آپ کے دائیں رخسار کی سفیدی دکھائی دینے لگی ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) صحیح اور دیگر کتابوں میں اس کا کچھ حصہ منقول ہے
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حجر ہے امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے امام ذہبی کہتے ہیں : اس کے حوالے سے منکر روایات منقول ہیں ۔