مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ صِفَةِ الصَّلَاةِ وَالتَّكْبِيرِ فِيهَا . باب: نماز کا طریقہ اور اس میں تکبیر کہنا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي بِنَا الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَلَوْ جَعَلْتَ جَنْبَيْهِ فِي الرَّمْضَاءِ لَأَنْضَجَتْهُ، ثُمَّ يُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى فَلَا يَزَالُ قَائِمًا يَقْرَأُ مَا سَمِعَ خَفْقَ نَعْلٍ مِنَ الْقَوْمِ ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُومُ فِي الثَّانِيَةِ فَيَرْكَعُ رَكْعَةً هِيَ أَقْصَرُ مِنَ الْأُولَى ، ثُمَّ يَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الثَّالِثَةَ أَقْصَرَ مِنَ الثَّانِيَةِ وَالرَّابِعَةَ أَقْصَرُ مِنَ الثَّالِثَةِ ثُمَّ يُصَلِّي الْعَصْرَ وَالشَّمْسَ بَيْضَاءَ نَقِيَّةً قَدْرَ مَا يَسِيرُ السَّائِرُ فَرْسَخَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ، وَيُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الْعَصْرِ وَيَجْعَلُ الثَّانِيَةَ أَقْصَرَ مِنَ الْأُولَى وَيُصَلِّي الْمَغْرِبَ حِينَ يَقُولُ الْقَائِلُ : غَرَبَتِ الشَّمْسُ أَمْ لَا ؟ وَيُطِيلُ الرَّكْعَةَ الْأُولَى مِنَ الْمَغْرِبِ وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ أَقْصَرَ مِنَ الْأُولَى وَيَجْعَلُ الرَّكْعَةَ الثَّالِثَةَ أَقْصَرَ مِنَ الثَّانِيَةِ وَيُؤَخِّرُ الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : وَلَوْ جَعَلْتَ جَنْبًا فِي الرَّمْضَاءِ لَأَنْضَجَتْهُ مَكَانَ جَنْبَيْهِ وَفِيهِ طَرَفَةُ الْحَضْرَمِيُّ قَالَ الْأَزْدِيُّ : لَا يَصِحُّ حَدِيثُهُ وَفِيهِ مَنْ قِيلَ إِنَّهُ مَجْهُولٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن ابواوفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ظہر کی نماز اس وقت پڑھاتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا اگر تم اس کے دونوں پہلوؤں کو ریت میں ڈالتے تو وہ بھن جاتے ، اس وقت آپ پہلی رکعت طویل ادا کرتے تھے ، اور اس وقت تک قیام کی حالت میں رہتے تھے جب تک لوگوں کے جوتوں کی آہٹ سنتے رہتے تھے آپ تلاوت کرتے رہتے تھے پھر آپ رکوع میں چلے جاتے تھے پھر آپ دوسری رکعت میں کھڑے ہوتے تھے تو دوسری رکعت آپ پہلی کی بہ نسبت مختصر ادا کرتے تھے پھر آپ تیسری رکعت کو دوسری سے زیادہ مختصر ادا کرتے تھے ، اور چوتھی رکعت کو تیسری سے زیادہ مختصر ادا کرتے تھے آپ عصر کی نماز اس وقت ادا کر لیتے تھے جب سورج روشن اور چمک دار ہوتا تھا کہ کوئی شخص اتنی دیر میں دو یا تین فرسخ دور تک جا سکتا تھا آپ عصر کی پہلی رکعت طویل ادا کرتے تھے ، اور دوسری رکعت پہلی کی بہ نسبت مختصر ادا کرتے تھے مغرب کی نماز آپ اس وقت ادا کر لیتے تھے جب کہنے والا یہ کہتا تھا کہ کیا سورج غروب ہو چکا ہے کہ نہیں ؟ مغرب کی پہلی رکعت آپ طویل ادا کرتے تھے ، اور دوسری رکعت پہلی رکعت سے مختصر ادا کرتے تھے ، اور تیسری رکعت دوسری سے مختصر ادا کرتے تھے عشاء کی نماز آپ کچھ تاخیر سے ادا کرتے تھے ۔
یہ روایت بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اگر تم ایک پہلو “ ۔ اس کی سند میں ایک راوی طرفہ حضرمی ہے ازدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی ایسا بھی ہے ، جس کے بارے میں یہ کہا: گیا ہے کہ یہ مجہول ہے ۔