مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ صِفَةِ الصَّلَاةِ وَالتَّكْبِيرِ فِيهَا . باب: نماز کا طریقہ اور اس میں تکبیر کہنا
وَعَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِي عَنِ افْتِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخِذَهُ الْيُسْرَى فِي وَسَطِ الصَّلَاةِ وَفِي آخِرِهَا وَقُعُودِهِ عَلَى وِرْكِهِ الْيُسْرَى [ وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُسْرَى ] وَنَصْبِهِ قَدَمَهُ الْيُمْنَى [ وَوَضْعِهِ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى ] ثُمَّ نَصْبِهِ إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ أَخُو بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ وَكَانَ ثِقَةً عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ مِقْسَمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ قَالَ : حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ : صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ بَنِي غِفَارٍ فَلَمَّا جَلَسْتُ فِي صَلَاتِي افْتَرَشْتُ رِجْلِيَ الْيُسْرَى وَجَلَسْتُ وَوَضَعْتُ يَدِيَ الْيُسْرَى عَلَى فَخِذِيَ الْيُسْرَى وَنَصَبْتُ صَدْرَ قَدَمِي الْيُمْنَى وَوَضَعْتُ قَدَمِيَ الْيُمْنَى عَلَى فَخْذِي الْيُمْنَى وَنَصَبْتُ إِصْبَعِي السَّبَّابَةَ ، قَالَ : فَرَآنِي خُفَافُ بْنُ إِيمَاءَ بْنِ رَحَضَةَ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَا أَصْنَعُ ذَلِكَ ، فَلَمَّا انْصَرَفْتُ مِنْ صَلَاتِي قَالَ : أَيْ بُنَيَّ ؛ لِمَ نَصَبَتْ إِصْبَعَكَ هَكَذَا ؟ قَالَ : فَقُلْتُ لَهُ : رَأَيْتُ النَّاسَ يَصْنَعُونَ ذَلِكَ ، قَالَ : فَإِنَّكَ أَصَبْتَ ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَصْنَعُ ذَلِكَ ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَقُولُونَ : إِنَّمَا يَصْنَعُ هَذَا مُحَمَّدٌ بِإِصْبَعِهِ يَسْحَرُ بِهَا ، وَكَذَبُوا إِنَّمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصْنَعُ ذَلِكَ يُوَحِّدُ بِهَا رَبَّهُ عَزَّ وَجَلَّ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ وَسَمَّى الْمُبْهَمَ الْحَارِثَ وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ وَلَمْ يُسَمِّهِ أَحْمَدُ . ¤ابن اسحاق کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے مجھے یہ بات بیان کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے درمیان میں اور نماز کے آخر میں کس طرح اپنے بائیں زانوں کو بچھاتے تھے ، اور کس طرح بائیں زانوں کے بل بیٹھتے تھے اور بایاں ہاتھ بائیں زانوں پر رکھتے تھے ، اور دائیں پاؤں کو کھڑا کر لیتے تھے ، اور دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھتے تھے پھر آپ اپنی شہادت کی انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے ہوئے اپنے پروردگار کی وحدانیت کا اعتراف کرتے تھے عمران بن ابوانس کا تعلق بنو عامر بن لوئی سے ہے وہ ” ثقہ “ ہیں انہوں نے ابوالقاسم مقسم سے روایت نقل کی ہے ، جو عبداللہ بن حارث بن نوفل کا غلام ہے وہ بیان کرتے ہیں : اہل مدینہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھے یہ حدیث بیان کی وہ فرماتے ہیں : میں نے بنوغفار کی مسجد میں نماز ادا کی نماز کے دوران جب میں بیٹھا تو میں نے بائیں ٹانگ کو بچا لیا اور بیٹھ گیا اور بایاں ہاتھ بائیں زانوں پر رکھ لیا میں نے دائیں پاؤں کا اگلا حصہ کھڑا کر لیا اور دایاں ہاتھ دائیں زانوں پر رکھ لیا اور پھر اپنے انگلی کے ذریعے اشارہ کیا ۔ ( یہاں عربی میں لفظ قدم استعمال ہوا ہے ) وہ صاحب بیان کرتے ہیں : سیدنا خفاف بن ایماء بن رحضہ رضی اللہ عنہ جنہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے انہوں نے مجھے ایسا کرتے ہوئے دیکھا جب میں نماز پڑھ کر فارغ ہوا تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹے ! تم نے اپنی انگلی کو کیوں اٹھایا تھا میں نے ان سے کہا: میں نے لوگوں کو ایسا کرتے ہوئے دیکھا ہے نہوں نے فرمایا : تم نے ٹھیک کیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرح کیا کرتے تھے مشرکین یہ کہا: کرتے تھے : سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس انگلی کے ذریعے جادو کرتے ہیں حالانکہ وہ جھوٹ بولتے تھے کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایسا اس لئے کرتے تھے تاکہ اس کے ذریعے اپنے پروردگار کی وحدانیت کا اظہار کریں
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے : انہوں نے مبہم شخص کا نام حارث بیان کیا ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے امام أحمد نے بھی اس کا نام نقل نہیں کیا ہے ۔