حدیث نمبر: 2787
وَعَنْ أَبِي خَالِدٍ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ فُلَانٌ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ وَهُوَ رَاكِعٌ وَيَقْرَأُ وَهُوَ سَاجِدٌ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ رِجَالًا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيهِمْ فَإِذَا دَخَلَ فِي الْقَلْبِ وَرَسَخَ فِيهِ نَفَعَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ أَبَا خَالِدٍ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین

ابوخالد جو سیدنا عبداللہ کے شاگردوں میں سے ایک ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص سیدنا عبداللہ کے پاس آیا اور بولا: اے ابوعبدالرحمن فلاں شخص رکوع کی حالت میں قرآن پڑھتا ہے ، جب وہ سجدے کی حالت میں ہوتا ہے ، تو اس وقت بھی قرآن پڑھتا ہے ، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا کہ وہ ( حلق سے آگے جا کر ) دل میں داخل ہوتا اور اس میں پختہ ہو جاتا اور نفع دیتا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں البتہ ابوخالد نامی راوی کے حالات بیان کرتے ہوئے میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2787
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله بن مسعود البذلى باب 9196»