مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ مَا يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ . باب: ( آدمی ) رکوع اور سجدے میں کیا پڑھے گا ؟
حدیث نمبر: 2784
وَعَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ وَشَدَّادُ بْنُ الْأَزْمَعِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : اخْتَلَفَا فَقَالَ أَبُو الْأَسْوَدِ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ فِي سُجُودِهِ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ لَا رَبَّ غَيْرُكَ ، وَقَالَ شَدَّادٌ : كَانَ يَقُولُ : سُبْحَانَكَ لَا إِلَهَ غَيْرُكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِوَايَةُ أَبِي الْأَسْوَدِ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَشَدَّادٌ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤محمد محی الدین
ابواسود اور شداد بن ازمع کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے راوی بیان کرتے ہیں : ان دونوں حضرات کا اختلاف ہوا ہے ابواسود کا یہ کہنا ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سجدے میں یہ پڑھتے تھے ” تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! تیرے علاوہ اور کوئی رب نہیں ہے “ ۔ جب کہ شداد کہتے ہیں : وہ یہ پڑھا کرتے تھے ” تو ہر عیب سے پاک ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ابواسود کی روایت کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں جب کہ شداد کو ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔