حدیث نمبر: 2743
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمًا صَلَاةً فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ قَالَ : " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ خَلْفِهِ : رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ : " مَنِ الْمُتَكَلِّمُ آنِفًا ؟ " قَالَ الرَّجُلُ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ رَأَيْتُ بِضْعَةً وَثَلَاثِينَ مَلَكًا يَبْتَدِرُونَهَا أَيُّهُمْ يَكْتُبُهَا أَوَّلًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ الْيَسَعُ بْنُ طَلْحَةَ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی جب آپ نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ نے سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَہ پڑھا آپ کے پیچھے موجود ایک فرد نے یہ کلمات پڑھے : ” اے ہمارے پروردگار حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، جو زیادہ ہو پاکیزہ ہو اس میں برکت موجود ہو “ ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو آپ نے تین دفعہ دریافت کیا : ابھی کلام کرنے والا شخص کون ہے ، تو ایک شخص بولا: یا رسول اللہ ! میں ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے میں نے تیس سے زیادہ فرشتوں کو دیکھا کہ وہ اس کلمے کی طرف لپکے تھے اس لئے کہ ان میں سے کون پہلے اس کو نوٹ کرتا ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یسع بن طلحہ ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2743
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف