مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ . باب: جب آدمی رکوع سے اپنے سر کو اٹھائے تو وہ کیا پڑھے ؟
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ كَانَ إِذَا قَالَ : سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا بَيْنَهُمَا وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ ، أَهْلُ الثَّنَاءِ وَأَهْلُ الْكِبْرِيَاءِ وَالْمَجْدِ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طُرُقٍ وَمِنْهَا طَرِيقٌ رِجَالُهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ فِيهَا أَشْعَثَ بْنَ سَوَّارٍ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَفِي بَقِيَّةِ الطُّرُقِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : کہ جب آپ سمِع اللهُ لِمَنْ حمدہ پڑھ لیتے تھے تو پھر آپ یہ پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! اے ہمارے پروردگار حمد تیرے ہی لئے مخصوص ہے ، جو آسمانوں کو بھر دے جو زمین کو بھر دے اور جو ان کے درمیان موجود جگہ کو بھر دے اور ان کے علاوہ جس چیز کو تو چاہے ، اس کو بھر دے تو ثناء کا اہل ہے کبریائی کا اہل ہے ، بزرگی کا اہل ہے ، جسے تو عطا کر دے اسے کوئی روکنے والا نہیں ہے ، اور تیرے مقابلے میں کوشش کرنے والے کی کوشش نفع نہیں دیتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں مختلف طرق کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک روایت ایسی ہے ، جس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں تاہم اس کی سند میں ایک راوی اشعث بن سوار ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ، جب کہ باقی طرق میں محمد بن ابولیلی ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔