مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ لَا يُتِمُّ صَلَاتَهُ وَنَسِيَ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا . باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز کو مکمل نہیں کرتا ہے ، اور رکوع یا سجدہ بھول جاتا ہے
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : نَهَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَقْرَأَ وَأَنَا رَاكِعٌ وَقَالَ : " يَا عَلِيُّ مَثَلُ الَّذِي لَا يُقِيمُ صُلْبَهُ فِي صَلَاتِهِ كَمَثَلِ حُبْلَى حَمَلَتْ فَلَمَّا دَنَا نِفَاسُهَا أَسْقَطَتْ ، فَلَا هِيَ ذَاتُ حَمْلٍ وَلَا هِيَ ذَاتُ وَلَدٍ ! ! " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى - قُلْتُ : وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ النَّهْيُ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرُّكُوعِ - وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس بات سے منع کیا ہے کہ میں رکوع کے عالم میں تلاوت کروں آپ نے ارشاد فرمایا : اے علی وہ شخص جو نماز میں اپنی پشت کو سیدھا نہیں کرتا ہے ، اس کی مثال حاملہ عورت کی مانند ہے ، جو حاملہ ہو جاتی ہے ، اور جب اس کے نفاس کا وقت قریب آتا ہے ، تو وہ اس وقت مردہ بچے کو جنم دیتی ہے ، تو اب وہ نہ تو حاملہ رہی ہے ، اور نہ ہی بچے والی رہی ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ حصہ منقول ہے ، جو رکوع کے دوران قرأت کرنے کی ممانعت کے بارے میں ہے ، اس روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔