❮
❯
حدیث نمبر: 272
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ النَّخْلَةِ ، مَا أَتَاكَ مِنْهَا نَفَعَكَ " .
قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ خَلَا قَوْلِهِ : " مَا أَتَاكَ مِنْهَا نَفَعَكَ " .
رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ ضَعِيفٌ فِيمَا رَوَاهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَلَمْ يَرْوِ هَذَا عَنِ الزُّهْرِيِّ .
قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ " وَغَيْرِ ذَلِكَ ، بَعْضُهَا فِي الْمَرَضِ وَثَوَابِهِ وَفِي الْجَنَائِزِ ، وَبَعْضُهَا فِي الْأَدَبِ .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” مؤمن کی مثال کھجور کے درخت کی مانند ہے ، اُس میں سے جو بھی چیز تمہارے پاس آئے گی ، وہ تمہیں نفع پہنچائے گی “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث ” صحیح “ میں منقول ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” اس میں سے جو چیز تمہارے پاس آئے گی ، وہ تمہیں نفع پہنچائے گی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، سفیان بن حسین نامی راوی ، زہری سے جو روایات نقل کرتا ہے ، اُن میں اُسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ، اور یہ روایت اُس نے زہری سے نقل نہیں کی ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : مؤمن کی مثال کھیتی کے نرم پودے کی مانند ہونے کے حوالے سے اور دیگر روایات آگے آئیں گی ، ان میں سے کچھ بیماری اور اُس کے ثواب سے متعلق باب میں ہوں گی ، کچھ جنائز سے متعلق باب میں ہوں گی اور بعض ادب سے متعلق باب میں ہوں گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 272
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 43 ، أخرجه مسند البزار برقم: 2435»