حدیث نمبر: 2688
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى بِهِمُ الْهَاجِرَةَ فَرَفَعَ صَوْتَهُ فَقَرَأَ ( وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ) ( وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى ) فَقَالَ لَهُ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمَرْتَ فِي هَذِهِ الصَّلَاةِ بِشَيْءٍ ؟ قَالَ : " لَا وَلَكِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أُوَقِّتَ لَكُمْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ أَبُو الرِّجَالِ الْأَنْصَارِيُّ الْبَصْرِيُّ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ظہر کی نماز پڑھاتے ہوئے بلند آواز میں تلاوت کی آپ نے سورت والشمس اور سورت والیل کی تلاوت کی سیدنا ابی بن کعب نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو اس نماز کے بارے میں کوئی حکم دیا گیا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں تمہارے لئے متعین کر دوں ( کہ کتنی تلاوت ہونی چاہیے )
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابورجال انصاری بصری ہے اور وہ منکر الحدیث ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2688
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف