حدیث نمبر: 2682
عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : تَمَارَوْا فِي الْقِرَاءَةِ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَأَرْسَلُونِي إِلَى خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ : قَالَ أُبَيٌّ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُطِيلُ الْقِيَامَ وَيُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ ، فَقَدْ أَعْلَمُ أَنَّ ذَلِكَ لَمْ يَكُنْ إِلَّا لِقِرَاءَةٍ ، وَأَنَا أَفْعَلُهُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ . ¤
محمد محی الدین

مطلب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگوں نے ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کے بارے میں بحث شروع کی تو انہوں نے مجھے خارجہ بن زید کے پاس بھیجا انہوں نے بتایا : سیدنا ابی بن کعب نے یہ بات بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طویل قیام کرتے تھے ، اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے جس سے مجھے پتہ چلا تھا کہ یہ قرأت کی وجہ سے ہوتا تھا تو میں بھی ایسا ہی کرتا ہوں۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند کی ایک راوی کثیر بن زید ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2682
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔