مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . باب: بسم اللہ الرحمن الرحیم کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَعْرِفُ خَاتِمَةَ السُّورَةِ حَتَّى تَنْزِلَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ، فَإِذَا نَزَلَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ عَرِفَ أَنَّ السُّورَةَ قَدْ خُتِمَتْ وَاسْتُقْبِلَتْ - أَوِ ابْتُدِئَتْ سُورَةٌ أُخْرَى - . ¤ قُلْتُ : اقْتَصَرَ أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ عَلَى قَوْلِهِ : لَا يَعْرِفُ خَاتِمَةَ السُّورَةِ حَتَّى تَنْزِلَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ رِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سورت کے اختتام کا پتہ نہیں چلتا تھا یہاں تک کہ بسم الله الرحمن الرحيم نازل ہو گئی جب بسم الله الرحمن الرحیم نازل ہو گئی ، تب یہ بات پتہ چل گئی کہ یہ سورت ختم ہو گئی ہے اور اگلی سورت شروع ہو گئی ہے یا دوسری سورت کا آغاز ہو گیا ہے ( یعنی یہاں لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہو گیا ہے ) ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف ان الفاظ کو نقل کیا ہے : “ آپ کو سورت کے خاتمے کا پتہ نہیں چلتا تھا یہاں تک کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہو گئی “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔