حدیث نمبر: 2620
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ : " وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ وَتَبَارَكَ اسْمُكَ وَتَعَالَى جَدُّكَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کا آغاز کرتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : ” میں نے اپنا رُخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے میں نے سیدھے دین پر قائم رہتے ہوئے مسلمان ہوتے ہوئے ( اس کی طرف اپنا رخ کیا ہے ) اور میں مشرک لوگوں میں سے نہیں ہوں تو ہر عیب سے پاک ہے اے اللہ ! اور حمد تیرے لئے مخصوص ہے تیر اسم برکت والا ہے تیری بزرگی بلند و برتر ہے تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے بے شک میری نماز میری قربانی میری زندگی ، اور میری موت اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے ، جس کا کوئی شریک نہیں ہے مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے ، اور میں مسلمانوں میں سے ایک ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عامر اسلمی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2620
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔