حدیث نمبر: 2575
عَنْ أَبِي خَيْرَةَ الصُّبَاحِيِّ قَالَ : كُنْتُ فِي الْوَفْدِ الَّذِينَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَزَوَّدَنَا الْأَرَاكَ نَسْتَاكُ بِهِ ، فَقُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدَنَا الْجَرِيدُ ، وَلَكُنَّا نَقْبَلُ كَرَامَتَكَ وَعَطِيَّتَكَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ الْقَيْسِ إِذْ أَسْلَمُوا طَائِعِينَ غَيْرَ مُكْرَهِينَ إِذْ قَعَدَ قَوْمٌ لَمْ يُسْلِمُوا إِلَّا خَزَايَا مَوْتُورِينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوخیرہ صباحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اس وفد میں شامل تھا جو لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں زادراہ میں پیلو کی شاخیں دی تھیں تاکہ ہم ان کے ذریعے مسواک کریں ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمارے ہاں لکڑیاں ہوتی ہیں لیکن ہم آپ کی کرامت اور آپ کے عطیہ کو قبول کرتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تو عبدالقیس قبیلے کے افراد کی مغفرت کر دے جب کہ یہ لوگ اپنی خوشی کے ساتھ اسلام قبول کر چکے ہیں انہوں نے زبردستی ایسا نہیں کیا ہے ، جب کہ کچھ لوگ اسلام قبول نہیں کرتے صرف رسوا ہو کر اور بندش میں آ کر ہی اسلام قبول کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2575
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني باب الياء من اسمه يعيش من يكنى أبا خيرة ابو خيرة الصباحي ، حديث 18745»