حدیث نمبر: 2550
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : كَانُوا يَدْخُلُونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَمْ يَسْتَاكُوا ، فَقَالَ : " تَدْخُلُونَ عَلَيَّ قُلْحًا ، اسْتَاكُوا ، فَلَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَفَرَضْتُ عَلَيْهِمُ السِّوَاكَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ كَمَا فَرَضْتُ عَلَيْهِمُ الْوُضُوءَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَزَادَ فِي آخِرِهِ : وَقَالَتْ عَائِشَةُ : مَا زَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُذَكِّرُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِينَا أَنْ يَنْزِلَ فِيهِ قُرْآنٌ . ¤ وَفِيهِ أَبُو عَلِيٍّ الصَّيْقَلُ ، قَالَ ابْنُ السَّكَنِ وَغَيْرُهُ : مَجْهُولٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے مسواک نہیں کی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم لوگ مسواک کیے بغیر میرے پاس آ گئے ہو تم لوگ مسواک کرو اگر اس بات کا اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں ان پر ہر نماز کے ساتھ مسواک کرنا لازم قرار دیتا جس طرح میں نے ان پر وضو کو لازم قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، اور اس کے آخر میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل مسواک کا ذکر کرتے رہے ، یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ اس کے بارے میں قرآن نازل ہو جائے گا“ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی ابوعلی صیقل ہے ۔ ابن سکن اور دیگر حضرات نے یہ کہا: ہے : یہ مجہول ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2550
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، اس کا راوی 'أبو علی الصیقل' مجہول ہے۔
تخریج حدیث «مسند أبى يعلى الموصلي مسند العباس بن عبد المطلب رضى الله عنه ، 6566 البحر الزخار مسند البزار ومما روى تمام بن العباس ، 1159»