حدیث نمبر: 2543
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " . ¤ قُلْتُ : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الصَّحِيحِ ، رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ مِنْ زِيَادَاتِهِ فِي الْمُسْنَدِ ، وَالْبَزَّارُ لِحَدِيثِ عَلِيٍّ وَحْدَهُ : إِلَّا أَنَّهُ زَادَ فِيهِ بَعْدَ قَوْلِهِ : " عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ " : " وَلَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ فَإِنَّهُ إِذَا مَضَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْأَوَّلِ هَبَطَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِلَى سَمَاءِ الدُّنْيَا فَلَمْ يَزَلْ هُنَاكَ حَتَّى يَطْلُعَ الْفَجْرُ يَقُولُ : أَلَا سَائِلٌ فَيُعْطَى ؟ أَلَا دَاعٍ يُجَابُ ؟ أَلَا مُسْتَشْفِعٌ فَيُشْفَعُ ؟ أَلَا تَائِبٌ يَسْتَغْفِرُ فَيُغْفَرُ لَهُ ؟ " . ¤ وَرِجَالُهَا ثِقَاتٌ وَلَكِنَّهُ فِي الْمُسْنَدِ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مُعَنْعَنٌ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَسَارٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ میں اپنی امت کو مشقت کا شکار کر دوں گا ، تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، اس روایت کو عبداللہ نے مسند أحمد کی زیادات میں نقل کیا ہے امام بزار نے صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول حدیث روایت کی ہے ، اور انہوں نے اس روایت میں ” ہر نماز کے وقت “ کے الفاظ کے ہمراہ یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اور میں عشاء کی نماز کو ایک تہائی رات تک مؤخر کر دیتا جب رات کا پہلا ایک تہائی حصہ گزر جاتا ہے ، تو اللہ تعالی آسمان دنیا کی طرف اترتا ہے اور صبح صادق ہونے تک مسلسل وہاں رہتا ہے وہ یہ فرماتا ہے : کیا کوئی مانگنے والا ہے کہ اسے دیا جائے کیا کوئی دعا کرنے والا ہے کہ اس کی دعا قبول ہو کیا کوئی سفارش کرنے والا ہے کہ اس کی سفارش قبول ہو کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے ، اور مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ اس کی مغفرت ہو جائے “ ۔
اس روایت کے رجال ” ثقہ “ ہیں تاہم مسند میں ابواسحاق کے حوالے سے سیدنا عبیداللہ بن ابورافع کے حوالے سے معنعن روایت کے طور پر منقول ہے امام بزار نے اسے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کیا ہے ۔ وہ بیان کرتے ہیں : عبدالرحن بن یسار نے عبیداللہ بن ابورافع کے حوالے سے مجھے یہ حدیث بیان کی ہے عبدالرحمن نامی کو یحیی بن معین ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2543
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن، اس کے تمام راوی ثقہ ہیں اور دوسری سند میں متابعت کی موجودگی کی وجہ سے عنعنہ کا نقص ختم اور سند متصل ثابت ہے۔