مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مَا يَفْعَلُ مَنْ جَاءَ بَعْدَ تَمَامِ الصَّفِّ . باب: جو شخص صف مکمل ہو جانے کے بعد آئے ، وہ کیا کرے ؟
وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ قَالَ : انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَجُلٌ يُصَلِّي خَلْفَ الْقَوْمِ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا الْمُصَلِّي وَحْدَهُ أَلَا تَكُونُ وَصَلْتَ صَفًّا فَدَخَلْتَ مَعَهُمْ أَوِ اجْتَرَرْتَ إِلَيْكَ رَجُلًا إِنْ ضَاقَ بِكُمُ الْمَكَانُ أَعِدْ صَلَاتَكَ فَإِنَّهُ لَا صَلَاةَ لَكَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِيمَنْ صَلَّى خَلْفَ الصَّفِّ فِي السُّنَنِ الثَّلَاثَةِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَفِيهِ السَّرِيُّ بْنُ إِسْمَاعِيلَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا وابصه بن معبد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ختم کی تو ایک شخص کو دیکھا جو لوگوں کے پیچھے ( صف میں اکیلا کھڑے ہو کر ) نماز ادا کر رہا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اکیلے نماز ادا کرنے والے شخص ! تم صف تک پہنچ کر لوگوں کے ساتھ شامل کیوں نہیں ہوئے اور اگر تمہارے لئے جگہ تنگ تھی تو تم نے کسی شخص کو کھینچ کر اپنی طرف کر لینا تھا اب تم اپنی نماز کو دہراؤ کیونکہ تمہاری نماز نہیں ہوئی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، ان کے حوالے سے ایک حدیث منقول ہے ، جو اس شخص کے بارے میں ہے ، جو صف کے پیچھے ( اکیلا کھڑا ہو کر ) نماز ادا کرتا ہے وہ حدیث تینوں ” سنن “ میں نقل کی گئی ہے ، لیکن وہ اس روایت کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سری بن اسماعیل ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔