حدیث نمبر: 2516
وَعَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ قَالَ : حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ مَسْعُودٍ الْقُرَشِيُّ وَزَاحَمَنِي بِمَكَّةَ أَيَّامَ ابْنِ الزُّبَيْرِ عِنْدَ الْمَقَامِ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ قَالَ : قُلْتُ لَهُ : أَكَانَ يُقَالُ فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : أَجَلْ ، وَاللَّهِ لَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ يَعْلَمُ النَّاسُ مَا فِي الصَّفِّ الْأَوَّلِ مَا صُفُّوا فِيهِ إِلَّا قُرْعَةً أَوْ سُهْمَةً " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَسْعُودٍ اخْتُلِفَ فِي صُحْبَتِهِ . ¤
محمد محی الدین

عبدالعزیز بن رفیع بیان کرتے ہیں : عامر بن مسعود قرشی نے مجھے حدیث بیان کی سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے زمانے میں ان کی مکہ میں مجھ سے ملاقات ہوئی تھی یہ ملاقات مقام ابراہیم کے پاس ہوئی تھی اور پہلی صف میں ہوئی تھی راوی کہتے ہیں : میں نے ان سے دریافت کیا : کیا یہ بات کہی جاتی ہے کہ پہلی صف زیادہ بہتر ہوتی ہے ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! اللہ کی قسم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ پہلی صف کا کیا اجر و ثواب ہے ، تو اس صف میں لوگ صرف قرعہ اندازی کے ذریعے شامل ہو سکیں گے “ ۔ ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ، تاہم اس کا مفہوم یہی ہے ) ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں صرف عامر بن مسعود کا معاملہ مختلف ہے ان کے صحابی ہونے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2516
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل ورجالہ ثقات۔