مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الضَّحِكِ وَالتَّبَسُّمِ فِي الصَّلَاةِ . باب: نماز کے دوران ہنس پڑنا یا مسکرا دینا
حدیث نمبر: 2441
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَيْنَمَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُصَلِّي الْعَصْرَ فِي غَزْوَةِ بَدْرٍ إِذْ تَبَسَّمَ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قِيلَ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَبَسَّمْتَ فِي الصَّلَاةِ ؟ قَالَ : "مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ وَعَلَى جَنَاحِهِ الْغُبَارُ فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ غزوہ بدر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر رہے تھے اس دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے جب آپ نے نماز مکمل کی تو آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ نماز کے دوران مسکرا دیے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میکائیل میرے پاس سے گزرے تھے ان کے ” پر “ پر “ غبار لگا ہوا تھا وہ مجھے دیکھ کے ہنس پڑے تو میں انہیں دیکھ کے مسکرا دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی وازع بن نافع ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔