مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ . باب: امام کی متابعت کرنا
حدیث نمبر: 2418
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ، فَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا وَإِذَا رَفَعَ فَارْفَعُوا وَلَا تَسْبِقُوهُ إِذَا رَكَعَ وَلَا إِذَا رَفَعَ وَلَا إِذَا سَجَدَ، فَإِنْ كُنْتُمْ إِنَّمَا بِكُمْ أَنْ تُدْرِكُوا مَا سَبَقَكُمْ بِهِ فَإِنَّهُ يَسْجُدُ قَبْلَكُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَكُمْ فَتَدَرَكُوا ذَلِكَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : امام کو اس لئے مقرر کیا گیا ہے تاکہ اس کی پیروی کی جائے جب وہ رکوع میں جائے تو تم بھی رکوع میں جاؤ جب وہ سر اٹھائے تو تم بھی اٹھاؤ تم اس سے سبقت نہ لے جاؤ جب وہ رکوع میں جائے یا سر کو اٹھائے یا سجدے میں جائے کیونکہ اگر تم اس حالت میں ہو گے ، تو تم اس تک اس وقت پہنچ جاؤ گے جس میں وہ تم سے سبقت لے جا چکا ہو گا وہ تم سے پہلے سجدہ کرے اور تم سے پہلے سر کو اٹھائے گا ، تو تم اس تک پہنچ جاؤ گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔