مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ مُتَابَعَةِ الْإِمَامِ . باب: امام کی متابعت کرنا
حدیث نمبر: 2413
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا قُمْتُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلَا تَسْبِقُوا قَارِئَكُمْ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْقِيَامِ ، وَلَكِنْ لِيَسْبِقَكُمْ قَارِئُكُمْ تُدْرِكُونَ مَا سَبَقَكُمْ بِهِ فِي ذَلِكَ إِذَا كَانَ هُوَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْقِيَامِ قَبْلَكُمْ فَتُدْرِكُونَ قَارِئَكُمْ بِهِ حِينَئِذٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِطُولِهِ ، وَرَوَى الْبَزَّارُ بَعْضَهُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم نماز میں کھڑے ہو ، تو رکوع سجدے اور قیام میں اپنے قاری ( یعنی امام ) سے آگے نہ نکلو بلکہ تمہارے قاری ( یعنی امام ) کو تم سے پہلے کام کرنا چاہیے وہ تم سے پہلے جس میں معاملے میں چلا جائے گا تم اس تک پہنچ جاؤ گے جب وہ رکوع یا سجود سے سر اٹھا رہا ہو گا یا قیام کر رہا ہو گا ، تو وہ جو بھی تم سے پہلے کرے گا تم اس وقت اپنے قاری کے پاس پہنچ جاؤ گے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے امام بزار نے اس کا کچھ حصہ نقل کیا ہے اور یہ روایت ” ضعیف “ ہے ۔