مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ . باب: اس شخص کا بیان جو اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ وَلَمْ تَضُرَّهُ مَعَهُ خَطِيئَةٌ ، كَمَا لَوْ لَقِيَهُ وَهُوَ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ وَلَمْ يَنْفَعْهُ مَعَهُ حَسَنَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ مَا خَلَا التَّابِعِيَّ ; فَإِنَّهُ لَمْ يُسَمَّ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فَجَعَلَهُ مِنْ رِوَايَةِ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . ¤ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ”جو شخص ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو کہ وہ کسی کو اس کا شریک قرار نہ دیتا ہو تو ایسا شخص جنت میں داخل ہو گا اور اس کے ہمراہ کوئی گناہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا ، جس طرح اگر وہ ایسی حالت میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتا کہ وہ کسی کو اُس ( یعنی اللہ تعالی ) کا شریک قرار دیتا ہوتا ، تو اُس ( شخص ) نے جہنم میں داخل ہونا تھا اور اُس ( شرک ) کے ہمراہ کسی نیکی نے اسے فائدہ نہیں دینا تھا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ تابعی شخص کا معاملہ مختلف ہے ، کیونکہ اس کا نام بیان نہیں کیا گیا یہ روایت امام طبرانی نے مسروق کی سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔