مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِمَامِ تَكُونُ لَهُ الْحَاجَةُ فَيُصَلِّي غَيْرُهُ . باب: جب امام کو کوئی کام درپیش ہو ، تو کوئی دوسرا نماز پڑھا دے
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِحَاجَتِهِ فَأَدْرَكَتْهُمْ وَقْتُ الصَّلَاةِ فَتَقَدَّمَهُمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فَجَاءَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَصَلَّى مَعَ النَّاسِ خَلْفَهُ فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ : " أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَفِيهِ: رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَثَّقَهُ هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ وَقَالَ أَحْمَدُ : لَا بَأْسَ بِهِ فِي أَحَادِيثِ الرِّقَاقِ وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : ایک مرتبہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کسی کام کے سلسلے میں تشریف لے گئے لوگوں کو نماز کا وقت ہو گیا تو سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے ( بڑھے انہوں نے نماز پڑھانی شروع کی ) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے آپ نے لوگوں کے ہمراہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز ادا کی پھر جب آپ نے سلام پھیرا تو آپ نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں نے اچھا کیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) تم لوگوں نے ٹھیک کیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے ، جسے ہیثم بن خارجہ نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے امام أحمد کہتے ہیں : دلوں کو نرم کرنے والے مضمون سے متعلق احادیث میں اس شخص میں کوئی حرج نہیں ہے ایک جماعت نے اس رادی کو ضعیف قرار دیا ہے ، اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن نامی راوی نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔