حدیث نمبر: 2387
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : جَاءَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهُ كَانَ مِنِّي اللَّيْلَةَ شَيْءٌ - يَعْنِي فِي رَمَضَانَ - قَالَ : " وَمَا ذَاكَ يَا أُبَيُّ ؟ " قَالَ : نِسْوَةٌ فِي دَارِي قُلْنَ إِنَّا لَا نَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَنُصَلِّي بِصَلَاتِكَ قَالَ : فَصَلَّيْتُ بِهِنَّ ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ وَأَوْتَرْتُ فَكَانْ سُنَّةَ الرِّضَا وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! گزشتہ رات میں مصروف رہا راوی بیان کرتے ہیں : یہ رمضان کے مہینے کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ابی کیا ہوا ؟ انہوں نے بتایا میرے گھر کی خواتین نے کہا: کہ ہم قرأت نہیں کر سکتی ہیں تو ہم تمہاری اقتداء میں نماز ادا کر لیتی ہیں سیدنا ابی بن کعب نے بتایا : میں نے انہیں آٹھ رکعات پڑھائیں اور وتر پڑھائے راوی کہتے ہیں : تو یہ رضامندی کی سنت تھی کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات ارشاد نہیں فرمائی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام طبرانی نے اس کی مانند روایت معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2387
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔