مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِمَامِ يَذْكُرُ أَنَّهُ مُحْدِثٌ . باب: جب امام کو یہ بات یاد آئے کہ وہ حدث والا ہے
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - دَخَلَ فِي صَلَاتِهِ وَكَبَّرْنَا مَعَهُ، فَأَشَارَ إِلَى الْقَوْمِ أَنْ كَمَا أَنْتُمْ، فَلَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّى أَتَانَا نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدِ اغْتَسَلَ وَرَأَسُهُ يَقْطُرُ مَاءً . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي صَلَاةُ الْمُتَيَمِّمِ بِالْمُتَوَضِّئِ بَعْدَ هَذَا بِيَسِيرٍ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز شروع کی آپ کی اقتداء میں ہم نے بھی تکبیر کہہ دی پھر آپ نے لوگوں کو اشارہ کیا کہ تم لوگ جس طرح ہو ویسے ہی رہو ہم مسلسل قیام کی حالت میں رہے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے آپ نے غسل کیا ہوا تھا اور آپ کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : تیمم کرنے والے شخص کا وضو کرنے والے کو نماز پڑھانے سے متعلق باب اس سے تھوڑی دیر بعد آ رہا ہے اگر اللہ نے چاہا ۔