حدیث نمبر: 2349
وَلَهُ عَنْهُ فِي رِوَايَةٍ : بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نُصَلِّي إِذِ انْصَرَفَ وَنَحْنُ قِيَامٌ - فَذَكَرَ نَحْوَهُ ¤ رَوَاهُمَا أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ : " فَلْيَنْصَرِفْ وَلِيَغْتَسِلْ ثُمَّ لْيَأْتِ فَلْيَسْتَقْبِلْ صَلَاتَهُ " وَمَدَارُ طُرُقِهِ عَلَى ابْنِ لَهِيعَةَ وَفِيهِ كَلَامٌ .
محمد محی الدین

ان کے حوالے سے یہ بات منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کرنے لگے اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ہم قیام کی حالت میں رہے ، ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔ یہ دونوں روایات امام أحمد امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہیں البتہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” اس شخص کو واپس جانا چاہیے غسل کر کے پھر آ کے نماز ادا کرنی چاہیے “ ۔ اس کے تمام طرق کا مدار ابن لہیعہ نامی راوی پر ہے ، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 2349
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف