مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْإِمَامَةِ . باب: امامت کا بیان
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : انْطَلَقْتُ مَعَ أَبِي إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِسْلَامِ قَوْمِهِ فَكَانَ فِيمَا أَوْصَانَا : " لِيَؤُمَّكُمْ أَكْثَرُكُمْ قُرْآنًا " فَكُنْتُ أَكْثَرَهُمْ قُرْآنًا فَقَدَّمُونِي . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِهِ عَنْ أَبِيهِ وَهُنَا عَنْ نَفْسِهِ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عمرو بن سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اپنی قوم کے اسلام قبول کرنے کے بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جو احکام دیے تھے ان میں یہ بات بھی شامل تھی تمہاری امامت وہ شخص کرے جسے تم میں سے سب سے زیادہ قرآن آتا ہو ۔ راوی کہتے ہیں : تو مجھے ان میں سے سب سے زیادہ قرآن آتا تھا تو انہوں نے مجھے آگے کر دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ میں منقول ہے ، جسے راوی نے اپنے والد کے حوالے سے نقل کیا ہے ، اور یہاں پر یہ روایت راوی کے حوالے سے منقول ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔